تعویذ کی حقیقت



سوال:۔تعویذ کی حقیقت اسلامی تعلیمات کی روشنی میںکیا ہے؟
 
جواب:۔تعویذ کی حیثیت  دوا کی طرح ایک تدبیر کی ہے ۔جس طرح دواپاک یاناپاک یاحلال یاحرام ہوسکتی ہے اس طرح تعویذبھی جائز یا ناجائز ہوسکتا ہے۔احادیث کو سامنے رکھ فقہاء تحریر کرتے ہیں کہ جس تعویذ کامعنی مفہوم معلوم ہو اوراس میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو اوراس کے بذات خود مؤثر ہونے کا عقیدہ  نہ رکھا جائے تووہ جائز ہے اورجو ان شرائط کے مطابق نہ ہووہ ناجائزہے۔بعض حدیثوں میں ’’تمیمہ ‘‘ کی ممانعت آئی ہے  مگر تمیمہ سے مرادقرآن وحدیث یا جائز کلمات پر مشتمل تعویذ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد جانور کی ہڈی یاڈوری  وغیرہ ہے جسے زمانہ جاہلیت میں لوگ گلے میں لٹکادیاکرتے تھے اوراس کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ ہمیں آفات ومصائب سے بچاتا ہے  اورہماری مرادیں حل کرتاہے۔ظاہر ہے جب کسی چیز کے متعلق مؤثر حقیقی ہونے کاعقیدہ رکھاجائے گاتو وہ ناجائز ہی ٹھہرے گی لیکن اگر جائز کلمات ہوں اور جائز مقصد کے لیے اس کااستعمال ہواورایک تدبیر کے طورپر اسے اختیارکیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔شامی :(6 / 363، کتاب الحظر والاباحۃ، ط؛ سعید)