تشبہ کاحکم



سوال:۔میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ غیر قوموں کے ساتھ تشبہ منع ہے تو پھر یہ  ہر چیز میں منع  ہوگی۔مجھے تعجب یہ ہے کہ ہم غیر قوموں کی ایجادات سے تو فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کے جدیدآلات استعمال کرتے ہیں  اورپھر کہتے ہیں کہ غیر قوموں  کے ساتھ  تشبہ منع ہے۔فیصل،کراچی
 
آپ کے سوال کا جواب تفصیل طلب ہے۔اگرآپ کو تفصیل جاننے میں دلچسپی نہ ہو تو جن چیزوں کو بطورمثال آپ نے ذکر کیا ہے ،اس کاجواب ان سطورکے آخر میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔تفصیل یہ ہے کہ انسان کے افعال مختلف ہیں اس وجہ سےغیرقوموں کےساتھ مشابہت کے درجات  بھی مختلف ہیں۔کوئی ایک  حکم انسان کے ہر ہر فعل پر نہیں لگایا جاسکتا۔
انسان اپنے اختیار سے جو افعال سرانجام دیتا ہے ،اس کی دوقسمیں ہیں ۱۔مذہبی امور۲۔معاشرتی و عادی امور
 
مذہبی امور میں تشبہ کا حکم
مذہبی امور سے مراد وہ امور اور اعمال ہیں، جن کا تعلق مذہب سے ہو، یعنی ان افعال و اعمال کو عبادت کے طور پر کیا جاتا ہو جیسے نصاریٰ کی طرح سینے پرصلیب لٹکانا، ہندووٴں کی طرح زنار باندھنایا پیشانی پر قشقہ لگانا، یا سکھوں کی طرح ہاتھ میں لوہے کا کڑاپہننا و غیرہ ۔اس قسم کے مذہبی امور میں غیر اقوام کی مشابہت اختیار کرنا بالکلیہ ناجائز اورحرام ہے۔
 
معاشرت و عادی امور میں تشبہ کا حکم
معاشرتی و عادی امور بھی دو قسم کے ہوتے ہیں :ایک وہ امور جو قبیح بالذات ہیں یعنی  وہ امور جن سے شریعت نے براہِ راست منع کیا ہے کہ ان افعال کو نہ کیا جائے۔دوسرےوہ امور جو مباح بالذات ہیںیعنی وہ امور جن سے شریعت نے براہِ راست تو منع نہیں کیا لیکن دیگر خارجی امور کی وجہ سے وہ ممنوع قرار دیے جاتے ہیں۔
 
قبیح بالذات امور میں تشبہ کا حکم
قبیح بالذات امور میں غیر مسلم اقوام کی مشابہت اختیار کرنا بھی حرام ہے، جیسے مردوں کاریشمی لباس استعمال کرنا یا کسی قوم کی ایسی حرکت کی نقل اتارنا جن میں ان کے معبودانِ باطلہ کی تعظیم ہوتی ہوجیسے بتوں کے آگے جھکنا وغیرہ، ان افعال میں تشبہ کی حرمت اس وجہ سے ہے کہ یہ امور قبیح بالذات ہیں، شریعت کی طرف سے ان کی ممانعت صاف طور پر آئی ہے۔ 
 
مباح بالذات امور میں تشبہ کا حکم
اگر وہ امور اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح نہ ہوں؛ بلکہ مباح ہوں تو ان کی بھی دو صورتیں ہیں:ایک وہ امورہیں جو کسی غیر قوم کا شعاریعنی مخصوص علامت و شناخت ہوں۔ دوسرےوہ افعال جو کسی غیر قوم کا شعار نہ ہوں۔
 
غیر اقوام کے شعار میں مشابہت کا حکم
اگر وہ (مباح بالذات ) امور غیر مسلم اقوام کے شعارمیں سے ہوں تو ان امور میں غیر اقوام کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، مثلاً: غیر مسلم اقوام کا وہ لباس جو صرف انہی کی طرف منسوب ہو اور انہی کی نسبت سے مشہور ہو اور اس مخصوص لباس کو استعمال کرنے والا انہی میں سے سمجھا جاتا ہو، جیسے : بدھی اور قشقہ
 
مطلقاً غیروں کے افعال میں مشابہت کا حکم
 اگر وہ مباح بالذات امور غیر مسلم اقوام کے شعار میں سے نہیں ہیں ، تو پھر ان افعال کی دو قسمیں ہیں کہان افعال کا بدل مسلمانوں کے پاس موجود ہے یاان کا بدل مسلمانوں کے پاس موجود نہیں ہے۔
 
ذی بدل اشیاء میں غیروں کی مشابہت کا حکم 
اگر ان مباح بالذات امور میں مسلمانوں کے پاس  ایسے امتیازی طور طریقے موجود ہوں جو غیر اقوام  کے طور طریقوں کے مشابہہ نہ ہوں تو ایسے امور میں غیروں کی مشابہت مکروہ ہے، کیوں کہ اسلامی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان اقوام کی ان اشیاء کا استعمال بھی ترک کر دیں جن کا بدل ہمارے پاس موجود ہو ورنہ یہ مسلم اقوام کے لیے عزت کے خلاف ایک چیزہو گی اور بلا ضرورت خوامخواہ دوسروں کا محتاج و دستِ نگر بننا پڑے گا جیسا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ہاتھ میں فارسی کمان (یعنی : ملکِ ایران کی بنی ہوئی کمان) دیکھی تو ناخوشی سے ارشاد فرمایا کہ ”یہ کیا لیے ہوئے ہو؟ اسے پھینک دو اور عربی کمان اپنے ہاتھ میں رکھو ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوت و شوکت دی اور بلادِ ارض کو مفتوح کیا“۔ (سنن ابن ماجة، باب السلاح، رقم الحدیث: ۲۸۱۰) فارسی کمان کا بدل عربی کمان موجود تھااس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرت دلا کر روک دیاتاکہ غیر اقوام کے ساتھ ہر ممکن امتیاز پیدا ہو سکے اور چھوٹے سے چھوٹے اشتراک کا بھی انقطاع ہو جائے۔
 
غیر ذی بدل اشیاء میں غیروں کی مشابہت کا حکم
 اگر غیر اقوام کی اشیاء ایسی ہوں کہ ان کا کوئی بدل مسلم اقوام کے پاس موجود نہ ہو ، جیسے آج یورپ کی نئی نئی ایجادات، جدید اسلحہ وغیرہ  تو اس کی پھر دوصورتیں ہیں:یا تو ان کا استعمال تشبہ کی نیت سے کیا جائے گا یا تشبہ کی نیت سے نہیں کیا جائے گا۔ پہلی صورت میں استعمال جائز نہیں ہوگاکیوں کہ تشبہ بالکفار کومقصود بنا لینا، ان کی طرف میلان و رغبت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتااور کفار کی طرف میلان یقینا اسلام کی چیز نہیں ہے؛ بلکہ اسلام سے نکال دینے والی چیز ہے۔ ہاں ! اگر ان چیزوں میں تشبہ کی نیت نہ ہو؛ بلکہ اتفاقی طور پر یا ضرورت کے طور پراستعمال میں آرہی ہوں تو ضرورت کی حد تک ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مجموعہ رسائل حکیم الاسلام، اسلامی تہذیب و تمدن : ۵/ ۱۲۸-۱۳۳، التنبہ علی ما في التشبہ للکاندھلوي، ص: ۸ -۱۲ ، فیض الباری: ۲/ ۱۵، انوار الباری: ۱۱/ ۱۰۵، ۱۰۶) واللہ اعلم