مروجہ حیلہ اسقاط
سوال :۔ بعد از سلام آج کا مسئلہ عرض ہے جو میت سے متعلق ہے:ایک جگہ میں نے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد قرآن پاک پر امام صاحب و چند لوگوں کو گول دائرہ کی شکل میں کوئی حیلہ اسقاط کرتے دیکھا جس کا مقصد ان کے نزدیک یہ بتایا گیا کہ میت کے ذمہ (نماز ،روزہ وغیرہ) جو بقیہ ہیں ان کی ادائیگی کا باعث ہو گی ۔آگے اللہ ہی بہتر جانے۔آپ سے سوال کرنے کا مقصد یہ دریافت کرنا کہ آیا یہ فعل درست ہے یا نہیں اور قرآن و سنت میں اس سے متعلق کیا بیان ہے۔
جواب: ۔حیلہ اسقاط کی اصل کتب فقہ میں موجود ہے ۔ فقہاء نے یہ تدبیرایسی غریب میت کے لیے تجویز کی تھی جس کے ذمہ نماز ، روزہ وغیرہ کچھ واجبات رہ گئے ہوں اور کوئی شخص اس کے بدلے فدیہ دینا چاہتا ہوں مگر میت کے ترکہ میں اتنی گنجائش نہ ہو کہ ان سب واجبات کا فدیہ دیا جاسکے لیکن اب بعض علاقوں میں اسے معمول بنادیا گیا ہے اوراسے بعد از مرگ اعمال کا ایک لازمی حصہ سمجھاجاتا ہے اورفقہاء نے جوشرطیں اس کے لیے لازم قرار دی تھیں ان کی رعایت نہیں کی جاتی اس لیے اب یہ حیلہ واجب الترک ہے۔ (شامی، کتاب الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الجنازۃ ، مطلب في القرأۃ للمیت وإہداء ثوابہا، کراچی۲/۲۴۳۔ (ترمذی شریف ، کتاب الزکاۃ ، باب ماجاء فی الصدقۃ عن المیت۱/۱۴۵، رقم: ۶۶۹)مرقاۃ المفاتیح(3/31، کتاب الصلوٰۃ، الفصل الاول، ط؛ رشیدیہ)