باندیوں کاحکم
سوال:۔ محترم ، کیا اسلام میں باندی (کنیز اور خادمہ) سے جنسی خواہش پوری کرنا جائز ہے کیوں کہ سورۂ مومنون آیت 5 اور 6 میں ہے کہ مومن اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتے ہیں، اور بیوی اور باندی پر کوئی ملامت نہیں ہے؟
جواب:۔باندی سے اس کے آقا کے لیے جنسی خواہش پوری کرنا جائز ہے جیسا کہ آپ نے اس کاحوالہ دیا ہے اورقرآن کریم کی دیگر آیات اوراحادیث سے بھی صراحت کے ساتھ اس کاجواز ثابت ہے مگرباندیوں سے مرادکیا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے۔باندیوں سے مراد وہ آزاد عورتیں نہیں ہیں جن کوعیاش طبقہ نے بطورداشتہ کے رکھا ہو۔آزاد عورتیں جن کی خریدوفروخت ہوتی ہے وہ بھی اس سے مراد نہیں ہے اورجس طبقے کو زورآور اورجابر طبقہ نے محض طاقت اورقوت کے بل بوتے پرغلامی کی زنجیروں میں جھکڑرکھا ہووہ بھی مراد نہیں ہے۔باندیوں سے مراد شرعی باندیا ں ہیں اور شرعی باندیاں وہ ہوتی ہیں جو جہاد کے بعدغنیمت میں حاصل ہوگئی ہوں۔ان گرفتار عورتوں کو یا تو مفت میں رہاکردیا جاتا ہے یا معاوضہ لے کر چھوڑدیا جاتا ہے یا ان کے بدلے مسلمان قیدیوں کو دشمن کی قید سے چھڑادیا جاتا ہے۔ لیکن اگرانہیں احسان کے طورپر آزاد کردینا ملکی مصلحت کے خلاف ہو اوروہ فدیہ بھی نہ اداکریں اورتبادلہ اسیران کی بھی صورت نہ بن سکے توپھر اسلامی علاقہ یعنی دارالاسلام لانے کے بعد خلیفہ وقت انہیں غازیوں میں تقسیم کردیتا ہے، اس تقسیم کی حکمت بھی ملکی اورتمدنی مصالح،معاشرے کی بہبود اورخود ان باندیوں کاتحفظ اورانہیں معاشرے کا ایک معززرکن بناتا ہوتا ہے۔تقسیم کے بعد آقا اگر اس باندی کاکسی سے نکاح کردے تو وہ اپنےمالک کے لیے حرام اورصرف اپنے شوہر کے لیے حلال ہوتی ہے اوراگر آقا چاہے تو اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرسکتا ہے یا بغیر نکاح کے محض استبراء رحم کرنے اس سے ازدواجی تعلق قائم کرسکتا ہے اوراگر اس تعلق کے نتیجے میں اولاد پیدا ہوگئی تو وہ باندی مالک کے مرنے کے بعدآپ ہی آپ آزاد ہوجاتی ہے۔اب آپ خود غورکیجیے کہ ایسی عورتیں جن کومفت میں آزاد کرنا ملکی مفادات کے خلاف ہو اوران کے ذریعے مسلمان قیدیوں کی رہائی بھی ممکن نہ ہو اورانسان کے ہونے کے ناطے وہ بھی فطری خواہشات رکھتی ہوں ،انہیں یوں ہی بے آسراچھوڑنا دینا اچھا ہے جس کے بعد وہ ذلت بھری زندگی بسرکریں اورسوسائٹی کے اخلاق وکردار بھی تباہ ہوں یا انہیں تحفظ دینااورایساطریقہ کار اختیار کرنا جس سے ان کی عزت نفس کا تحفظ ہواوران کے فطری دواعی کی تسکین ہو،زیادہ اچھا ہے؟ آج کل نہ کوئی ملک حقیقی معنی میں دارالاسلام ہے اورنہ ہی خلیفۃ المسلمین کا کہیں وجو دہے۔بعض ممالک کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہاں درپردہ غلامی کارواج ہے مگرریاستی سطح پر اسے تسلیم نہیں کیا جاتانیز اقوامِ متحدہ میں شامل ممالک نے آپس میں معاہدہ کررکھا ہے کہ وہ جنگی قیدیوں کوغلام یا باندی نہیں بنائیں گے اس لیے جو ممالک اس معاہدے کاحصہ ہیں ان کے لیے جب تک وہ معاہدہ قائم ہے کسی جنگی قیدی کوغلام یاباندی بناناجائز نہیں ہے۔ گھروں یا کارخانوںمیں جو ملازم اور نوکر رکھے جاتے ہیںاُن کا حکم غلام باندیوں جیسا نہیں ہےبلکہ یہ سب لوگ شرعا اورقانوناآزاد ہیں اورانہیں آزاد باشندوں کے حقوق حاصل ہیں۔ غریب علاقوں سے جو عورتیں خرید کر لائی جاتی ہیں یا کہیں سے اِغوا کرکے جن کی خرید وفروخت کی جاتی ہے نیز جو خواتین بوجہ مجبوری وغربت کے دوسروں کے گھر میں جاکر اجرت پر کام کرتی ہیں، اُن کے ساتھ بھی باندیوں جیسا سلوک ناجائز وحرام ہے۔
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : یدخل الرقیق في ملک الإنسان بواحد من الطرق الآتیۃ ۔ أولا : استرقاق الأسری والسبي من الأعداء الکفار ، وقد استرق النبي ﷺ نساء بني قریظۃ وذراریہم ۔ (۲۳/۱۲، رق ، أسباب تملک الرقیق)
ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : فلو قال الإمام من أصاب جاریۃ فہي لہ ، فأصابہا مسلم فاستبرأہا لم یحلّ لہ وطؤہا ولا بیعہا ، کما لو أخذہا المتلصص ثمۃ واسترأہا لم تحل لہ إجماعًا ۔ (۶/۱۹۴، کتاب الجہاد ، باب المغنم وقسمتہ ، مطلب مہم في التنفیل العام بالکل أو بقدر منہ ، ط : دیوبند)
ما في ’’ الشامیۃ ‘‘ : ومن المعلوم في زماننا أن کل من وصلت یدہ من العسکر إلی شيء یأخذہ ولا یعطی خمسہ ، فینبغي أن یکون العقد واجبًا إذا علم أنہا ماخوذۃ من الغنیمۃ ، ولذا قال بعض الشافعیۃ : إن وطء السراري اللاتي یجلبن الیوم من الروم والہند والترک حرامٌ ۔ (۴/۱۰۰، کتاب النکاح ، فصل في المحرمات ، مطلب مہم في وطء السراري اللاتي یؤخذون غنیمۃ في زماننا)
(۲) ما في ’’ تکملۃ فتح الملہم ‘‘ تنبیہ : وینبغي أن یتنبہ ہنا إلی شيء مہم ، وہو أن أکثر أقوام العالم قد أحدثت الیوم معاہدۃ فیما بینہا ، وقررت أنہا لا تسترق أسیرًا من أساری الحروب ، وأکثر البلاد الإسلامیۃ الیوم من شرکاء ہذہ المعاہدۃ ، ولا سیما أعضاء ’’ الأمم المتحدۃ ‘‘ فلا یجوز لمملکۃ إسلامیۃ الیوم أن تسترق أسیرًا ما دامت ہذہ المعاہدۃ باقیۃ ۔ (۱/۲۷۲، کتاب العتق ، تنبیہ في معاہدۃ عدم الاسترقاق فیما بین أعضاء الأممم المتحدۃ)
(۳) ما في ’’ الہدایۃ ‘‘ : وإذا کان أحد العوضین أو کلاہما محرما فالبیع فاسد کالبیع بالمیتۃ والدم والخمر والخنزیر ، وکذا إذا کان غیر مملوک کالحرّ ۔ (۳/۳۳ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، کذا في التنویر مع الدر :۷/۲۳۵ - ۲۳۶، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد)
(۴) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {ولا تقربوا الزنٰی إنہ کان فاحشۃ وسآء سبیلا} [بنی اسرائیل :۳۲] ۔ {والذین ہم لفروجہم حٰفظون إلا علی أزواجہم أو ما ملکت أیمانہم فإنہم غیر ملومین فمن ابتغی ورآء ذلک فہم العٰدون} ۔ (سورۃ المؤمنون :۵ ، ۶، ۷)
ما في ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : والزنا وطء مکلف ناطق طائع في قبل مشتہاۃ خال عن ملکہ أي ملک الواطيء وشبہتہ أي في المحل ۔ التنویر وشرحہ ۔ وفي الشامیۃ : قال الشامي رحمہ اللہ تعالی : قولہ : (خال عن ملکہ) أي ملک یمینہ وملک نکاحہ ۔ (۶/۷، ۸، کتاب الحدود ، أحکام الزنا)
(فتاویٰ رحیمیہ:۱۰/۲۱۰، آپ کے مسائل اور ان کا حل:۷/۵۵۳) ( از:المسائل المہمہ فیما ابتلت بہ العامۃ)