حرام مال سے مسجدکی تعمیر
سوال:۔ ہمارے شہر میں ایک مسجد کی تعمیر کروائی جارہی ہے جو بلاشبہ ایک نیک عمل ہے۔ مگر جو شخص اس کام کے لئے اپنا سرمایہ لگا رہا ہے وہ سترہ گریڈ کا سرکاری ملازم ہے اور اس کی ظاہر آمدنی اس پیسے سے کئی درجے کم ہے جو وہ مسجد پر لگا رہا ہے۔ یقین کامل ہے کہ جو پیسہ اس مسجد کی تعمیر پر لگایا جا رہا ہے وہ حلال نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حرام ذرائع سے حاصل کئے گئے مال سے مسجد تعمیر کی جاسکتی ہے۔؟ بالفرض اگر مسجد بن بھی جاۓتوکیااسمسجدمیںنمازاداکرناٹھیکہوگایانہیں؟احادیثکیروشنیمیںوضاحتکریں۔ شکریہ، سید عبدالحکیم شاہ، لورالائی
جواب:۔ محض وہم وگمان سے کسی کی کمائی کو حرام کہنا سوء ظن ہونے کی بناء ناجائز ہے ،جس سےاجتناب ضروری ہے۔اگر کسی کی کمائی یقینی حرام ہے تواس سے مسجدبنانے سے نہ کمائی حلال ہو جائے گی اور نہ اس کا اجر ملے گا کیونکہ اللہ تعالی خود پاک ہیں اورپاکیزہ مال قبول فرماتے ہیں البتہ اگر حرام مال مسجد میں لگادیا جائے تو اس کی چند صورتیں ہیں:۱۔اگر مسجد پہلے سے موجود ہے اس میں دیواروں پر رنگ وروغن اور دیگر تعمیرات پر حرام مال استعمال ہوا تو اس مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں اگر چہ حرام مال لگانے کا گناہ ہوگا (2) مسجد کا فرش بنانے میں حرام مال استعمال ہوا تواس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اس کے تدارک کی صورت یہ ہے کہ حرام مال سے بنا فرش اکھاڑ کر دوبارہ حلال مال سے بنادیا جائے۔( 3)حرام مال سے زمین خرید کر مسجد بنائی گئی، تو یہ مسجد تو بن جائے گی لیکن اس میں نماز پڑھنا مکروہ ہوگا، اس لیے کہ مسجد کا مسجد ہونا الگ چیز ہے، اور مقبول ہونا الگ چیز ہے، اور اس کے تدارک کی بھی کوئی صورت نہیں، البتہ بعض علماء کا کہنا ہے اگرمسجد کی زمین یا ملبہ حرام مال متعین کرکےنہ خریدا ہو تو اس مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ نہ ہوگا، البتہ اتنی رقم صدقہ کردی جائے۔(فتاوی دارالعلوم زکریا1/592، احسن الفتاوی6/431، امداد الفتاوی2/645) رد المحتار (1/ 658/ 379)