وحی ،کشف اورالہام کافرق



سوال:۔ ہفت روزہ ندائے خلافت (43)آرٹیکل ٗ قادیانی اقلیت کیوں؟ از جناب مشتاق احمد قریشی صاحب، نظر سے گزرا،اچھا لگا۔ضمنایا غیر ضمناایک سوال ذہن میں آیا کہ وحی ، الہام اور کشف کا سورس (SOURCE) کیا ایک ہے ؟ اگر نہیں تو (وحی کے مقابل) الہام اور کشف کی کیا حیثیت ہے؟ تصوف وغیرہ میں یہ اصطلاحات بہت استعمال ہوتی ہیں۔ لوگوں کی غالب اکثریت اس کے زیرِ اثر ہے یعنی الہام اور کشف کو حقیقت مانتی ہے۔ الہام اور کشف رکھنے والوں کے کرشمے معاشرے میں المناک کہانیوں کی صورت میں بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ایک شخص جس کا دعویٰ ہے کہ وہ دماغ پڑھ لیتا ہے، یہ کیا ہے؟ الہام ہے یا کشف ہے یا کچھ اور؟؟ کیا اس کا مذہب(دین)سے کوئی تعلق ہے؟  کیا اسےمروجہ اصطلاح میں ’’ولی اللہ ‘‘کہہ سکتے ہیں ؟
اگر وحی ، الہام اور کشف کا سورس (یعنی علم کا منبع جہاں سے یہ آتے ہیں) ایک ہے تو کیا یہ عقیدہ مہرِ ختمِ نبوت کو توڑنے اور عقیدہ ختم نبوت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف نہیں ہے؟
 
جواب:۔  پہلے الہام، وحی اور کشف کی حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے۔کشف کے معنیٰ ہیں کسی بات یا واقعہ کا کھل جانا۔ الہام کے معنی ہیں دل میں کسی بات کا القا ہوجانا اور  وحی کہتےہیں اللہ تعالی کی جانب سے نبی کی طرف بھیجا جانے والا پیغام۔ الہام کی حقیقت یہ ہے کہ بغیر نظر واستدلال کے اﷲ تعالیٰ کوئی حقیقت بندے کے قلب میں القاء فرمادیں ، یا کسی غیبی مخلوق کے ذریعہ اطلاع بخش دیں جیسا کہ اس حدیث میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ انَّ اللّٰہ تَعَالٰی جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَانَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوْا فِیْہِ وَقَالَ فِیْہِ عُمَرُ الَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ فِیْہِ عَلٰی نَحْوِمَا قَالَ عُمَرُ (ترمذی )
ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حق بات کو (الہام کے ذریعہ سے) عمر کی زبان اور قلب پر جاری کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب کبھی لوگوں کو کوئی (نئی) بات پیش آئی پھر اس کے بارے میں لوگوں نے بھی اپنی رائے دی اور حضرت عمر نے بھی اپنی رائے دی تو قرآن (ہمیشہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہی نازل ہوا۔معلوم ہواکہ الہام اور کشف اور وحی تینوں چیزیں اللہ تعالی کے چاہنے سے ہی ہوتی ہیں ،انکا منبع ایک ہی ہےلیکن ان   میں بنیادی فرق ہے کہ وحی نبی کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور الہام اور کشف غیر بنی کو ہوتے ہیں۔ وحی تو نبوت کے ساتھ ختم ہو گئی ۔ اب اگرکوئی اس کادعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔کشف والہام کا حکم  یہ  ہے کہان سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے ، اگر شرعی قواعد کے مطابق ہے تو قابل عمل ہے ورنہ واجب الترک ہے۔ان دونوں کی رو اسے اگر کوئی حقائق ومعارف کادعوی کرے تو صرف وہی حقائق ومعارف مقبول ہیں جن کو شریعت مسترد نہ کرے ۔رسالہ قشیریہ میں ابوسلیمان دارانی کا قول منقول ہے کہ اکثر میرے دل میں کوئی نکتہ اسرارِ صوفیہ میں سے آتا ہے مگر میں اس کو  دو عادل گواہوں کے بغیرکہ وہ کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ کے مطابق ہے، قبول نہیں کرتا ، اور ابو سعیدخراز کا قول ہے :( کل باطن یخالفہ الظاہر فھو باطل)  جو باطن کہ ظاہر کے خلاف ہو وہ باطل اور مردود ہے ۔
جیسا کہ ذکر ہوا کہ وحی صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے اور کسی بھی غیر نبی کو خواہ وہ تقدس اور ولایت کے کتنے بلند مقام پر ہو، وحی نہیں آسکتی البتہ بعض اوقات اللہ تعالی  اپنے بعض خاص بندوں کو کچھ باتیں القاء کر دیتا ہے جنہیں کشف یا الہام کہا جاتا ہے۔ان دونوں میں حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ کشف کا تعلق حسیات سے ہےیعنی اس میں کوئی چیز یا واقعہ آنکھوں سے نظر آ جاتا ہےاور الہام کا تعلق وجدانیات سے ہےیعنی اس میں کوئی چیز نظر نہیں آتی، صرف دل میں کوئی بات ڈال دی جاتی ہے، اسی لئے عموماً الہام کشف کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہوتا ہے۔) فیض الباری 1/19)
آجکل بہت سے ایسے     لوگ ہیں  جو کہ کشف اورالہام  کا سہارا لے کر جھوٹ  بولتے ہیں ۔ایسی صورت میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کشف کیسا ہے اور  اس مدعی کشف کا کردار کیسا ہے۔ اگر کشف شریعت کے مطابق ہے اوروہ شخص سنت کا اتباع کرنے والا ہے تو اس کا کشف قابل قبول ہے اور اگرکشف ہی خلاف شریعت ہو یا کوئی شخص  سنت تو کجا  فرائض کا اہتمام نہ کرتا ہو تو ایسے شخص کا  کشف بھی مردو ہےنیز کشف کسی نیک آدمی ہی کا کیوں نہ ہوں ، کوئی شرعی حجت نہیں ہے کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہو ۔لہذامذکورہ شخص کے دعوی  اورکردار دونوں کوشریعت کی میزان پر پرکھنا چاہیے۔محض دماغ پڑھنے کی صلاحیت  کی وجہ سے اسے ولی اللہ کہنادرست نہیں ہے کیونکہ یہ صلاحیت تو غیر مسلم کو بھی تجربے اورمحنت کی بناء یا داخلی فراست کی بناء پر حاصل ہوناممکن ہے ۔ ولایت کامدار اتباع شریعت ہے۔اگر شریعت کی پابندی نہیں ہے تو سب کچھ شیطانی  مکر وفریب اورشعبدہ بازی  ہے۔لہذااگر مذکورہ  شخص موحد اورمتبع سنت  ہو اوراس کادعوی شریعت کے موافق ہو تو اتباع شریعت کی وجہ سے اسے نیک  اورمتقی کہنے میں حرج نہیں ہے مگرپھربھی اس کے کسی دعوی پرشریعت کے کسی حکم کا مدار نہیں ہے اوراسے خود بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بات کے متعلق  قطعیت کادعوی کرے اورلوگوں کو اس کی طرف بلائے۔