قسطوں پر خریدوفروخت سود نہیں



سوال :۔ کیا سود صرف پیسے سے پیسے پر ہے یا کوئی بھی چیز ہم قسط پر لیں کیا اس میں بھی سود ہے؟ کیوں کہ آج کل  موبائل سے لے کر گاڑی  تک قسطوں  پر مل رہی ہے اور کیا بینک سے گاڑی نکلوانے پر سود ہے؟طیب شفیق
 
جواب:۔سود صرف  پیسے پر زیادہ پیسے لینے کانام نہیں ہے مگر قسطوں پر جو خریدوفروخت ہوتی ہے وہ سود نہیں ہے بلکہ بیچنے والا نقد کے مقابلے میں ادھار زیادہ قیمت پر فروخت کردیتا ہے اورقیمت تھوڑی تھوڑی کرکے وصول کرتا ہے۔اس قسم کے معاملے میں اگر شرعی شرائط کالحاظ رکھا جائے تو درست ہے مثلا معاملہ متعین ہوکہ نقدکیاجارہاہے یاادھار،مدت متعین ہو کہ کتنے عرصے میں قیمت ادا کی جائے گی اورقسط کی رقم متعین ہوکہ ماہانہ کتنی رقم وصول کی جائے گی۔مزید یہ کہ قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی بناپر کوئی اضافہ جرمانہ  عائد کرنے کی شرط نہ ہو۔اگر ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی ہوگی تو معاملہ غیر شرعی ہوجائے گا اورغیر شرعی معاملات پر فریقین گناہ گار بھی ہوتے ہیں  اورکمائی بھی  اگر حقیقی سود نہیں تو معنوی سود ضروربن جاتی ہے۔بینک جس طریقے پر قسطوں پر گاڑی دیتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، البیوع / مسائل الربا ۴؍۴۰۰ نعیمیۃ دیوبند)المبسوط للسرخسي(13 /9، باب البیوع الفاسدہ، ط؛ غفاریہ)البحر الرائق (6/114، باب المرابحۃ والتولیہ، ط؛سعید)