دینی پیغامات بھیجنا اورانہیں مٹانا



سوال: بعض لوگ فون وغیرہ  کے  پیغامات کے ذریعے قرآنی آیات اور  احادیثِ مبارکہ  کو آگے بھیجنے سے یہ کہہ کر منع کرتے ہیں کہ  یہ پیغامات ڈیلیٹ ہوجاتے ہیں ، اور یہ ڈیلیٹ  ہونا اور مٹانا  قیامت کی علامات میں سے ہے،  لہذا کوئی بھی ایسا پیغام جس میں قرآن و حدیث کے الفاظ ہوں، وہ آگے  نہ بھیجیں ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ موبائل فون وغیرہ کے ذریعے ایسے پیغامات بھیجنا صحیح ہے یا نہیں؟( عبد العزیزخان، کراچی)
 
جواب: دین کی نشرو اشاعتاور تذکیر و نصیحت کی غرض سے آیاتِ قرانیہ ، احادیثِ مبارکہ  ، اور دینی پیغام بھیجنا فی نفسہ جائز ہے، تاہم اس میںدو باتوں کا خیال رکھنا  نہایت ضروری ہے۔ایک یہ کہ مذکورہ پیغامات معتبر اور مستند ہوں۔دوسرے یہ کہ قرآن مجید کی آیات کو اس کے   عربی رسم الخط  (رسم ِعثمانی) میں لکھاجائے۔کسی کو پیغام میں قرآن  کریم، احادیثِ مبارکہ یااسلامی کلمات موصول ہوں تو ان کو پڑھنے کے بعد یا ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بعد ان کومٹانے کی ضرورت درپیش ہو  تو اس  میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔جن روایات میں  قیامت کے  قریب قرآن مجید کے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کے حکم اور منشاء سے  لوگوں کے سینوں اور مصاحف سے اٹھالیا جائے گا۔
الإتقان في علوم القرآن (4 / 168، النوعالسادسوالسبعون: فيمرسومالخطوآدابكتابته، ط: مجلس العلمی، ہند) فتاوی عالمگیری (5 / 322، البابالخامسفيآدابالمسجدوالقبلةوالمصحفوماكتبفيهشيءمنالقرآن، ط؛ رشیدیہ)