زکوۃ اورقربانی کے نصاب کافرق
سوال:۔زکوۃ اور قربانی کے بارے میں مجھے الجھن رہتی ہے ۔ان دونوں کا معیار کیا ہے ۔ایک شخص زکوۃ نہیں دیتا ہے مگر قربانی کرتا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص پر قربانی ضروری ہو اور زکوۃ ضروری نہ ہویا زکوۃ ضروری ہو اور قربانی ضروری نہ ہو۔ نیاز یوسف زئی،ایبٹ آباد
جواب۔نصاب دوقسم پر ہے ۔ایک نصاب نامی ( بڑھنے والا) ہوتا ہے جس میں سونا چاندی،اموال تجارت اور کرنسی شامل ہے۔یہ زکوۃ کا نصاب کہلاتا ہے۔دوسرانصاب غیر نامی(نہ بڑھنے والا)ہوتا ہے۔اس دوسرے نصاب میں قابل زکوۃ اموال کے علاوہ جتنا مال ہو وہ شمار ہوتا ہے۔اس دوسرے نصاب کے مالک پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی البتہ اگرنصاب ضروریات سے زائد ہے اور چھ سوبارہ گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہے یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر صدقہ فطر کی ادائیگی واجب ہے۔اس پر قربانی واجب ہے۔اس پر ایسے قریبی رشتہ داروں کا نفقہ واجب ہے جو نادار ہوں اور خود نہ کماسکتے ہوں۔اس پر حج فرض ہے،اگر نقد رقم ہاتھ میں نہ ہوتو زائد مکان یا دوکان یا گاڑی فروخت کرکے حج پر جانا واجب ہے۔اس کے لیے زکوۃ لینا حرام ہے اوراگر اسے زکوۃ دی جائے تو ادا نہ ہوگی۔جو شخص نصاب نامی یعنی زکوۃ کے نصاب کا مالک ہو اس پر بھی یہی احکام لازم ہیں اور ایک مزید فریضہ اس پر یہ لازم ہے کہ ہر سال زکوۃ نکالنافرض ہے۔اس تفصیل سے دوباتیں واضح ہیں ایک یہ کہ جس شخص پر زکوۃ واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے لیکن جس شخص پر قربانی واجب ہے یعنی وہ صرف نصاب غیر نامی کا مالک ہے اس پر زکوۃ واجب نہیں۔دوسرافرق یہ معلوم ہواکہ زکوۃ صرف گنے چنے اموال(سوناچاندی،مال تجارت اورکرنسی)پر واجب ہوتی ہے جب کہ قربانی ہر ایسے مال کی وجہ سے واجب ہوتی ہے جوضرورت سے زائد ہو اور نصاب کے بقدر ہو۔ایک تیسرا فرق اس طرح ہے کہ زکوۃ کے نصاب پر سال کا گزرنا شرط ہے جب کہ قربانی کے نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں۔