میاں بیوی کا عدالت جائے بغیر خلع کرلینا



سوال:۔میری شادی کو چھ سال کا عرصہ ہوا ہے۔شروع دن سے ہی میری بیوی میرے ساتھ نباہ کےلیے تیار نہیں تھی۔بس اس کی ایک رٹ تھی کہ مجھے طلاق دے دو ۔ایک مرتبہ جب اس نے بہت مجبور کیا تو میں نےکہا تم مجھ سے خلع لے لو،اس نے کہا ہاں ٹھیک ہے میں لیتی ہو اور میں نے بھی کہہ دیا کہ میں نے دے دیا  حالانکہ یہ ہماری آپس کی گفتگو کی تھی جب کہ خلع تو عدالت سے ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود دل میں ایک شک سا ہے ،ا س بارے  میں کیا حکم ہے۔مراد خان،کراچی

جواب:۔خلع چونکہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی کا معاملہ ہے اس لیے زوجین عدالت کے توسط کے بغیر بھی خلع کرسکتے ہیں۔آپ نے کھلے لفظوں میں بیوی کو خلع کی پیشکش کی اور بیوی نے پیشکش کو قبول کرلیا اس لیے خلع کامعاملہ مکمل ہوگیا اور اس کے نتیجے میں  نکاح ختم ہوگیا۔اب  اگردونوں کی رضامندی ہو تو عدت کے اندر یا عدت کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔آپ دونوں کی گفتگو میں اگر چہ خلع کے معاوضہ کا ذکر نہیں آیا مگر چونکہ خلع کا رائج مفہوم یہی ہے کہ  شوہر کسی بدل کے عوض بیوی کو اپنے نکاح سے آزاد کردیتا ہے اس لیے بیوی اگر مہر وصول کرچکی ہے تو آپ کو واپس لوٹائے گی اور اگرتاحال مہر ادانہیں کیا گیا ہے تو آپ سے اس کی ادائیگی ساقط ہے۔