کسی ایک امام کی تقلید کرنا



سوال:ـمیں نے اپنے دوست سے سنا ہے کہ چاروں امام یعنی امام ابوحنیفہ ،امام مالک، امام شافعی ،امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ  برحق ہیں  میں سمجھنا یہ چاہتا ہوں کہ اگر چاروں امام برحق ہیں تو پھر کسی ایک کی تقلید  کیوں ضروری ہے  سب  کی تقلید کیوں نہیں کی جاسکتی ۔نیز اگر تقلید ضروری امر ہے تو ان ائمہ اربعہ سے پہلے جو لوگ گزرے وہ بھی تقلید شخصی کرتے تھے یا نہیں ؟      (حیدر ٹنڈوآدم )

جواب:-  جب یہ بات تسلیم ہے کہ  چاروں امام برحق ہیں تو ان میں سے  کسی بھی امام کی پیروی کی جائے تو انسان حق  مذہب پرہی  کہلائے گا ۔ اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو سب اماموں میں سے جس کی بات جس موقع کےلئے اچھی لگے اس پر عمل کرلیا جائے  یا پھر کسی کو ایک کو مقتدا اوررہبر مان کر اس کی اتباع کی جائے ۔ جو شخص عقلمند اور دانا ہوگا اس کا فیصلہ  اس موقع پر یہی ہوگا کہ دوسری صورت بہتر ہے کیونکہ پہلی صورت دین نہیں بلکہ خواہشات کی  پیروی ہے جب کہ  کامیابی  دین کے اتباع میں ہے خواہشات  کی اتباع میں نہیں ، اس لئے ہرعامی  شخص پر لازم ہے کہ کسی ایک امام کی پیروی کرے ۔علامہ جلال الدین سیوطی  رحمہ اللہ المتوفی 911  الحاوی للفتاویٰ  میں لکھتے ہیں  کہ  عامی شخص پر جو  اجتہاد کا مرتبہ  نہ رکھتا ہو  واجب ہے  کہ کسی ایک  متعین امام  کی پیروی کرلے ۔جو لوگ ائمہ کرام  سے پہلے گزرے ہیں  انہوں خیرالقرون کا زمانہ پایا ہے،اس زمانہ میں صحابہ کرام  اور تابعین عظام موجود تھے اور لوگ اپنی خواہشات کے بجائے  ان مقدس ہستیوں سے پوچھ کر عمل کرتے تھے ۔ نیز اس زمانے میں بھی تقلید ِشخصی کی مثالیں پائی جاتی ہیں چنانچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو  یمن بھیجا تووہاں کےمقامی لوگ ان ہی  کی پیروی کرتے تھے ۔یہ تقلید ِ شخصی ہی  تھی ۔کوفہ کے لوگ حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی تقلید کرتے تھے ۔جب صحابہ کرام کا زمانہ ختم ہوا  تودوسری صدی ہجری میں لوگوں نے اِن ائمہ کی تقلید شروع کی، اس زمانہ میں یہی ائمہ  حضرات ہی دین کی صحیح رہنمائی کرنے والے تھے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ" اُس زمانہ میں ( یعنی ان ائمہ کے دور میں ) ان ائمہ کی تقلید ہی واجب تھی "۔ چونکہ ہر شخص کتاب اللہ اور حدیث کا علم نہیں رکھتا اس لئے اسے کسی صاحب علم پر اعتماد کرکے اس کی مان کر دین پر عمل کرنا لازم ہے  اسی کانام تقلید ہے ۔ ( صحیح البخاری : 2/997 ۔الحاوی للفتاویٰ للسیوطی :1/295 ۔ الانصاف: 59 ۔الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیہ 2/243 )