کسی نزاع کی صورت میں شریعت کے بجائے قانون کو حکم /فیصل مقرر کرنا
سوال:۔میں نے ایک دوست کے ساتھ ایک کاروبار شروع کیا ۔سنت پر عمل کرتے ہوئے میں نے کاروباری شرائط کو لکھنے کا مطالبہ کیا تو میرا پارٹنر بخوشی راضی ہوگیا لیکن اس بات کو ماننے سے انکار کردیا کہ اگر ہمارے درمیان کوئی اختلاف ہوجائے تو اس کا حل دین اور شریعت کے مطابق ہوگا۔ان کا کہنا یہ تھا کہ اول تو اختلاف کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر آگئی اور ہم آپس میں مسئلہ حل نہ کرسکے تو جو قانون کا فیصلہ ہوگ وہی دونوں کو قبول کرنا ہوگا ۔اب آپ رہنمائی کریں کہ ہم دونوں سے کس کی بات کی درست ہے ۔سید رضی الدین ،یوکے
جواب :۔قرآن کریم کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے معاملات شریعت کے مطابق حل کرنے چاہیے۔سورہ نساء کے آیت نمبر65 میں ارشاد باری ہے :نہیں ِاے محمد ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مؤمن نہیں ہوسکتے،جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات تک میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو فیصلہ تم کرواس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں،بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔اسی موضوع کی ایک اور آیت کا ترجمہ ذکر کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے:" اے نبی !کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائیں ہیں،اس کتاب پرجو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ،مگر چاہتے ہیں یہ ہیں کہ کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں،حالاں کہ انہیں طاغوت کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا تھا،شیطان انہیں بھٹکاکر راہ راست سے دور لے جانا چاہتا ہے۔ان آیات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوا کہ اپنے تنازعات کے حل اور معاملات کے تصفیہ کے لیے شریعت کی طرف رجوع کرناہر مسلمان پر لازم ہے ۔جو لوگ ایسا نہیں کرتے اور اپنے معاملات کے حل کے لیے غیر شرعی قانون کو تجویز کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی صریح آیتوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔بہرحال جب کوئی قول وقرار کیا جائے یا کوئی معاہدہ ضبط تحریر میں لایا جائے تو اس میں نزاع کے حل اور جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لیے شریعت ہی طرف سے رجوع کرنے کی شرط لگانی چاہیے۔